Go to full page →

تیسرا باب - روحانی تاریکی کا دَور AK 45

پرلس نے تھسلنیکیوں کے نام دوسرے خط میں پہلے سے بتا دیا تھا کہ پاپائی نظام کے استحکام ہونے کے نتیجہ میں بہت بڑی بر گشتگی معرضِ وجود میں آئے گی۔ اُس نے اعلان کیا کہ اُس وقت تک مسیح کا دن نہیں آئے گا جب تک پہلے بر گشتگی نہ ہو لے۔ لکھا ہے“کسی طرح سے کسی فریب میں نہ آنا کیونکہ ہوہ دن نہیں آئے گا جب تک پہلے بر گشتگی نہ ہواور وہ گناہ کا شخص یعنی ہلاکت کا فرزند ظاہر نہ ہو۔ جو مخالفت کرتا ہے اور ہر ایک سے خُدا یا معبود کہلاتا ہے اپنے آپ کو بڑا ٹھہراتا ہے۔ یہاں تک کی خُدا کے مقدس میں بیٹھ کر اپنے آپ کو خُدا ظاہر کرتا ہے” تھسلنیکیوں4:3:2۔ “کیونکہ بے دینی کا بھید تواب بھی تاثیر کرتا جاتا ہے مگر اب ایک روکنے والا ہے اور جب تک کہ وہ دور نہ کیا جا ئے روکے گا“2 تھسلنیکیوں 7:2۔ حتٰی کہ رسول نے اُس ابتدائی زمانہ میں دیکھ لیا تھا کہ بر گشتگی کلیسیا میں گھستی آرہی ہےاور یہی ناقص تعلیم پو پائی نظام کی ترقی کے لئے راہ تیار کر رہی ہے۔ AK 45.1

پہلے آہستہ آہستہ بڑی خا مو شی سے اور پھر کھلم کھلا جب اُس نے اپنی قوت بڑھالی اور لوگوں کے اذہان پر قبضہ کاصل کر لیا تو ” بدی کے بھید نے” اپنے دھوکے وہی اور کفر گو کام کو ترقی دی ۔ تقریباً کسی کو محسوس ہوئے بغیر بت پرستوں کے رسم و رواج نے مسیحی کلیسیا میں اپنا راستہ پا لیا ۔ سمجھوتے کی روح اور میل جول کا عمل شدید ایذاراسانی کے سبب جا کلیسیا نے بت پرستی کے زیر سایہ برداشت کیا کچھ دیر کے لئے رُکا رہا لیکن جو نہی ایذاراسانی ختم ہوئی اور میسحیت درباروں اور شاہی محلوں میں داخل ہو گئی تو کلیسیا نے مسیح اور اُس کے رسولوں کی سادگی کو بت پرست کاہنوں اور حاکموں کی شان و شوکت اور خود بنیی کی خاطر ترک کر دیا۔ اور خُداوند خُدا کے مطالبات کی جگہ کلیسیا نے انسانی نظریات اور روایات رکھ لیں۔ چھو تھی صدی کے اوائل میں کانسٹنٹیں کی نام نہاد تبدیلی نہایت ہی شادمانی کا باعث بنی جبکہ دنیا استبازی کا لبادہ پہن کر چرچ میں داخل ہو گئی۔ اُس کے بعد سے بد چلنی کے کام نے بڑی تیزی سے ترقی کی ۔ بت پرستی کی تعلیمات، رسم و رواج اور اوہام ، مسیح یسوع کی پیروی کرنے کے دعویداروں کے ایمان اور پر ستش میں شامل ہو گئیں۔ مسیحت اور بت پرستوں کے درمیان سمجھوتہ کے نتیجہ میں ” گناہ کا آدمی” وجود میں آیا جس کا ذکر پیشینگوئی میں پیشتر کیا جا چکا تھا کہ وہ مخالفت کرنے کے لئے خود کو خُدا سے بلند بنائےگا۔ جھو ٹے مذہب کا یہ بہت بڑا نظام ابلیسی قوت کا شہکار اور اس کی کوششوں کی یاد گار ہے جہاں وہ خود تخت پر برا جمان ہو کر دنیا پر اپنی مر ضی کی حکومت کرے گا۔ AK 45.2

شیطان نے ایک دفعہ مسیح یسوع کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کو شش کی تھی۔ وہ خُدا کے بیٹے کو آزمانے کے لئے بیابان میں آیا اور اُسے دنیا کی تمام حکو متیں اور ان کی شان و شوکت دکھائی۔ اور مسیح خدا وند سے کہا کہ اگر وہ تاریکی کے حاکم کی برتری تو تسلیم کر لے تو وہ یہ سب کچھ اس کے ہاتھ میں دے دے گا۔ مسیح یسوع نے آزمانے والے سرکش کو جھڑکا اورا سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ مگر ابلیس جب انہی آزمائشوں کو لے کر انسان تک پہنچاتا ہے تو اسے بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ دنیوی عزت و وقار اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے ابلیس نے کلیسیا کی رہنمائی کی کہ وہ دنیا کے سر کردہ لوگوں کی حمایت حاصل کرے۔ یوں مسیح خدا وند کو ردکر دیا گیا اور کلیسیا کو تر غیب دی گئی کہ وہ اپنی وفادایاں ابلیس کے نما ئندہ بشپ آف روم سے وابستہ کر لے۔ رومن ازم کی تما م تعلیمات میں سے یہ تعلیم سر فہرست ہے کہ مسیح یسوع کے عالمگیر چرچ کا پوپ دیدنی سر ہے۔ اسی لئے دنیا کے تمام بشپوں اور پاسبانوں کی نسبت اُس کے پاس اعلٰے اختیار ہے ۔ اس سے بڑھ کر یہ پوپ کو معبود (Dity)کا خطاب بھی دیا گیا ہے- اور اسے یوں پکارا جاتا ہے “خداوند خدا پوپ” “Lord God the pope”اسے لا خطا قرار دیا گیا وہ تمام انسانوں سے اطاعت کا تقا ضا کرتا ہے۔ AK 46.1

یہی مطالبہ آزمائش کے بیابان میں ابلیس کا تھا ۔ آج بھی روم کی اس کلیسیا کے زریعہ اُس کا وہی مطالبہ ہے ۔ اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُس کی اطاعت قبول کرنے لے لئے تیار بیٹھی ہے مگر وہ جو خُدا سے ڈرتے اور اُس کی تعظیم کر تے ہیں وہ اس مفروضے کا اسی طرح مقابلہ کریں گے جس طرح مسیح یسوع نے عیار دشُمن کا مقا بلہ کیا تھا کہ: توخداوند اپنے خُدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔ لوقا 8:4۔خداوند نے اپنے پاک کلام میں کہیں بھی یہ اشارہ نہیں دیا کہ اُس نے کسی شخص کو کلیسیا کا سر مقرر کیا ہےپوپ بھی ایسی برتری کلام مقدس کی تعلیم کی براہِ راست نفی کرتی ہے۔ مسیح کی کلیسیا پر پوپ کا کو ئی اختیار نہیں یہ صرف قبضہ بالجبر ہے۔ AK 46.2

رومن کیتھو لکس، پرو ٹسٹنٹس پر حقیقی کلیسیا میں بدعث پھیلا نے اور عیاری سے اُس سے راہ فرار اختیار کرنے کا الزام لگاتےہیں۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے تمام الزامات خود اُن ہی پر صادق آتے ہیں۔ اُنہوں نے ہی مسیح یسوع کے جھنڈے کو بر طرف کیا اور اُس ایمان سے خود کو علیحدہ کر لیا جو “مقدسوں کو ایک ہی بار سو نپا گیا تھا” یہوداہ 3:1۔ ابلیس بخوبی جانتا ہے ہے کہ کلام مقدس انسانوں کو اُس کے مکرو فریب میں امتیاز کرنے کی سمجھ اور اُس کی قوت کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیں گے ۔ کیونکہ دُنیا کے نجات دہندہ نے بھی کلام کے ذریعہ ہی ابلیس کے حملوں کا مقا بلہ کیا تھا ۔ اُس کے ہر حملے کے وقت مسیح یسوع نے ابدی سچائی کی ڈھال کو استعمال کر تے ہو ئے کہا“لکھا ہے“۔ دشمن کے ہر حملے کے وقت مسیح یسوع نے ابدی سچائی کی ڈھال کو استعمال کرتے ہوئے کہا “لکھا ہے“۔ دشمن کے ہر مشورہ پر مسیح یسوع نے کلام مقدس کی قوت اور حکمت سے ابلیس کی مزاحمت کی۔ اس لئے ابلیس کو انسانوں پر حکمرانی اور پوپ کے غا صب اختیار کو قائم کر نے کیلئے لازم ہوا کہ بنی نوع انسان کو با ئبل مقدس سے بے بہرہ کر دے ۔ کیونکہ با ئبل مقدس نے خداوند کو سرفراز کر کے فانی انسان کو اُس کے حقیقی مر تبہ پر بنائے رکھنا تھا ۔ اس لئے ابلیس کے لئے لازم تھا کہ اُس کی مقدس سچائیوں کو چھپائے اور ان کی اشاعت کو رو کے اور ضبط کرے ۔ اس فلسفہ کو رومن کلیسیا نے پوری طرح سے اپنایا۔ کئی سو سال تک بائبل مقدس کی اشاعت پر پا بندی عائد رکھی گئی۔ لوگوں کو اسے پڑھنے یا اپنے گھروں میں رکھنے کی اجازت نہ تھی وہ اور بے اصولے مذہبی راہنما اور رہب اپنے جھوٹے دعووں کی ساکھ بنا ئے رکھنے کے لئے با ئبل کی تعلیم کی تشریح کر تے رہے ۔ یوں پوپ کو تقر یباً ساری دُنیا نے زمین پر خُدا کا نائب تسلیم کر لیا اور اُسے کلیسیا اور ریاست پر اختیار اور دیگر حقوق ومراعات حاصل ہو گئیں۔ AK 47.1

با ئبل مقدس جس سے غلط تعلیم کی نشاند ہی ہوتی ہے اُسے سامنے سے ہٹا دیا گیا اور پھر ابلیس اپنی مرضی کے مطا بق کام کرنے لگا۔ اس سے متعلق پیشینگو ئی پہلے سے مو جود تھی کہ پوپ کی حکو مت “مقررہ اوقات اور شریعت کو بدلنے کی کو شش کرے گی “دانی ایل 25:7 ۔اور اس کام کو کرنے میں کوئی دیر نہ لگائی گئی۔ بت پرستوں سے جو لوگ تبدیل ہو کر آئے انہیں بت پرستی کے متبادل کچھ مہیا کرنے اور پھر اُن کی نا م نہاد مسیحیت کو قبولیت کی تقو یت پہنچا نے کے لیے بتوں اور مقرون اشیاء(Relics) کی پرستش بتد ریج مسیحی عبادت میں متعارف کروائی گئی۔ جنرل کونسل کے حکم سے بت پرستی کے اس نظام کو آخر کار مسلمہ قرارد ے دیا گیا۔ AK 47.2

اس کام کی تکمیل کے لئے روم نے خُدا کے دس احکام کی شریعت میں سے دوسرے حکم کو خارج کر دیا جو بتوں کو پر ستش کی مما نعت کرتا ہے اور دسویں حکم کو دحکموں میں بانٹ دیا تاکہ تعداد پوری رہے۔ AK 48.1

بت پرستوں کو رعایت دینے کی روح نے مزید خُدا کے اختیار کی بے حرمتی کرنے کی راہ کھول دی۔ ابلیس نے کلیسیا کی غیر وقف شدہ قیادت کے ذریعہ چو تھے حکم پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا۔ اور قدیم سبت کو بر طرف کرنے کی کو شش کی جس کو خُدا نے برکت دی اور مقدس ٹھہرایا تھاپیدائش2:2۔3۔ اور اس کی جگہ اُس تہوار کو مقرر کیا جو بت پرست قو میں سورج کی تعظیم میں مناتی تھیں۔ گو اس تبد یلی کو پہلے پہل کھلم کھلا تو نہ منایا گیا۔ AK 48.2

اسی لئے پہلی صدیوں میں تمام مسیحی حقیقی سبت کو منایا کرتے تھے۔ انہیں خُداوند کے لئے بڑی غیرت تھی۔ چونکہ ان کا ایمان تھا کہ اُس کے احکام لا تبدیل ہیں اس لئے وہ خُداوند کے آئین و قوا نین کی پاکیزگی کی بڑے جوش و خروش سے پاسبانی کرتے تھے۔ تو بھی بڑی فر یبی سے ابلیس نے اپنے نما ئندوں کے ذریعہ اپنا مقصد پا لیا۔ تاکہ لوگوں کی توجہ سنڈے کی طرف مبذول ہو جائے جسے مسیح یسو ع کے مردوں میں میں سے جی اُٹھنے کے تہوار سے جوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد مذہبی سروسز کا اس دن انعقاد ہو نے لگا۔ مگر ابھی تک اسے تفریحی دن کا درجہ حا صل تھا۔ جب کہ ہفتہ کو پاک دن کت طور پر منایا جاتا رہا۔ AK 48.3

ابلیس جو کچھ چاہتا تھا اُس کے حصول کے لئے اُس نے ایک منصوبہ بنایا۔ اور وہ یہ کہ اُس نے مسیح یسو ع کے آنے سے پہلے یہودیوں کی ایسی رہنمائی کی کہ انہوں نے سبت کو جبری لاگو کر کے اس قدر کٹھن کر دیا کہ یہ ایک نا قابلِ برداشت بوجھ محسوس ہونے لگا۔ جھوٹی تعلیم کا سہارا لیتے ہوئے اُس نے سبت کو بطور یہود ی دن پیش کر کے قابلِ نفرت بنا دیا۔ جب کہ دوسری طرف مسیحی بدستور اتوار کو عام خو شی و مسرت کے تہوار کے طور پر منا رہے تھے یہودی مذہب کو نفرت دکھانے کی غرض سے ابلیس نے ان مسیحیوں کے دل میں یہ خیال ڈال کر کہ انہوں نے سبت کو روزہ،افسردگی اور مایوسی کا دن بنا دیا۔ AK 48.4

چھو تھی صدی کے پہلے حصے میں کانسٹیٹین بادشاہ نے حکم جاری کیا ساری رومی حکومت میں اتوار کو عوامی تہوار کے طور پر منایا جائے۔ اُس کی بت پرست رعایا سورج کے دن کو مقدس جان کر مناتی تھی اور مسیحی بھی اس کی عزت و تکریم کرتے تھے یہ شہنشاہ کی پالیسی تھی کہ بت پرستوں اور مسیحیوں کے جو بھی تضاد ہیں اُنہیں بھلا کر متحد ہو جا ئیں۔ ایسا کرنے کی تر غیب اُسے کلیسیا کے اُن بشپوں نے دی جو حکو مت اور اختیار کے بھوکے تھے اور یہ بات اُس کے دل میں اُتر گئی ۔ اُس نے گمان کیا کہ اگر بت پرست اور مسیحی ایک ہی دن کو ماننے لگیں تو نام نہا د مسیحیت کو قبول کرنے والے بت پرستوں کو تقو یت ملے گی اور اس سے کلیسیا کی شان و شوکت ا ور قوت میں اضافہ ہو گا۔ لہٰذا بعض خُدا ترس مسیحی سنڈے کے تقدس کو کسی حد تک ما ننے لگے، اس کے ساتھ ساتھ وہ چوتھے حکم کی بھی فرما نبرداری کرتے ہوئے سبت کو خُدا کا مقدس اور حقیقی دن مناتے رہے۔ AK 48.5

ابلیس مکار کا ابھی کام مکمل نہیں ہوا تھااس کا مقصد تھا کہ تمام مسیحی دُنیا کو وہ اپنے جھنڈے تلے جمع کرے اور اپنے اختیار کو اپنے اس نائب کے ذریعہ عمل میں لائے جو خود کو مسیح کا نما ئندہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اُن بت پرستوں کے ذریعہ جو نیم تبدیل شدہ تھے اور کلیسیا کے اعلٰے عہدہ دار ان اور دنیا کے ولدادہ کلیسیا کے لوگوں کے ذریعہ اس نے اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ وقتاًفوقتاً بڑی بڑی کو نسلیں منعقد کی گئیں جن میں دُنیا بھر سے کلیسیا کے معز زین نے شرکت کی ۔ تقریباً ہر کونسل میں سبت کو خُداوند نے قائم کیا تھا اُس کی عزت و وقار کو کم کیا گیا جب کہ اتوار کو بلآخر متفقہ طور پر سرفراز کر دیا گیا۔ یوں بت پر ستوں کا ایک تہوار الہٰی عزت و احترام کا حامل ہو گیا جب کہ بائبل کا سبت صرف یہودیوں کا متبرک دن کے طور پر خیال کیا جانے لگا اور اس کے ماننے والوں کو ملعون قرار دےدیا گیا۔ AK 49.1

وہ مُلحد خود کو ان سب پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔” ہر ایک سے جو خُدا یا معبود کہلاتا ہے اپنے آپ کو بڑا ٹھہرا تا ہے۔ یہاں تک کے وہ خُدا کے مقدس میں بیٹھ کر اپنے آپ کو خُدا ظاہر کرتاہے” تھسلنیکیوں 4:2 ۔ اُس نے اس الہٰی حکم کو تبدیل کر نے کی جرات کی جو بلا شبہ تمام بنی نوع انسان کو حقیقی اور زندہ خُدا کی خبر دیتا ہے۔ چو تھے حکم میں یہ بتایا گیا ہے کہ خُداوند خُدا آسمان اور زمین کا خالق ہے۔ اور اسی لحاظ سے وہ دوسرے جھوٹے معبودوں سے متفرق اور ممتاز ہے ۔ یہ تخلیق کے کام کی یاد گار کے طور پر تھا اور اسے انسان کے اذہان میں رہے کہ اس کا پیدا کرنے والا وہی ہے۔ اور وہی تعظیم و تکریم اور پر ستش کے لائق ہے۔ ابلیس کی حتی الوسہ کو شش یہی ہوتی ہے کہ وہ انسان خُدا کی فرما نبرداری سے بازرہیں۔ اور اس کی شریعت کو نہ مانیں۔ اسی لئے وہ اپنی تمام تر کوشش چھوتھے حکم کو منسوخ کرنے پر صرف کرتا ہے جو خُدا کو بطور خالق کے پیش کرتا ہے۔ AK 49.2

اب پرٹستٹنٹ کا اسرار یہ ہے کہ مسیح یسوع کا مردوں میں سے اتوار کو زندہ ہونا اتوار کو مسیحی سبت بنا دیتا ہے۔ مگر اس دلیل پر کلام ِ مقدس خاموش ہے۔ وہان ایسا ثبوت نہیں ملتا۔ اتوار کے دن کو ایسی عزت و تعظیم نہ تو مسیح یسوع نے دی اور نہ ہی اُس کے رسولوں نے بلکہ اتوار کو ماننے کی جڑیں“بے دینی کے بھید “میں پائی جاتی ہیں تھسلنیکیوں 7:2 ۔ جبکہ اس بے دینی نے پولس رسول کے زمانہ سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہمارے خُداوند نے پاپائیت کے اس بچے کو کہاں اور کب متبنیٰ بنا کر گود لیا؟جن باتوں کے لئےکلام مقدس اجازت ہی نہیں دیتی ان کے لے کون سے دلائل دئیے جا سکتے ہیں؟ AK 50.1

“چھٹی صدی تک پاپا ئیت پوری طرح قائم ہو چکی تھی۔ اس کے اختیار کا تخت شاہی شہر میں لگادیا گیا تھا جب کہ وہ روم کے بشپ کو تمام کلیسیاوں کا واحد سر گنہ قرار دے گیا ۔ بت پرستی نے اپنی جگہ پاپا ئیت کو دے دی تھی۔ مکاشفہ 2:13 کے عین مطا بق اس حیوان کو اژدہانے “اپنی قدرت اور اپنا تخت اور بڑا اختیار دے دیا“۔ لہٰذا یہاں سے شروع کر کے پاپا ئیت کے ظلم کا دور دورہ چل پڑا جسے دانی ایل اور مکاشفہ کی پیشنیگوئیوں میں 1260سالہ زمانہ دیاد ور کہا جاتا ہے دانی ایل 25:7 مکاشفہ 5:13۔7۔ AK 50.2

اس دور میں مسیحیوں کو مجبور کیا گیا کہ یا تو وہ اپنی وفاداری پوپ کے ساتھ رکھیں اور اس کی رسومات کو مانیں اور اُسی کی پرستش کریں یا پھر جیلوں میں پڑیں اور شکنجے میں جکڑے جائیں ۔ یہاں مسیح کے کلام کی تکمیل ہوئی کہ تمہیں ماں باپ اور بھائی اور رشتہ دار اور دوست بھی پکڑوائیں گے بلکہ وہ تم سے بعض کو مرد ڈالیں گے۔ اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تم سےعداوت رکھیں گے“لوقا 16:21۔17۔ ایذا رسانی ایمان اداروں پر بڑے قہرہ غضب سے نازل ہوئی۔ وہ ایسی ایذا رسانی تھی جو پہلے کبھی نہ ہوئی تھی جس میں یہ دنیا ایک بہت بڑا میدان جنگ بن گئی۔ کئی صدیوں تک مسیح یسوع کی سچی کلیسیا نے تنہائی اور گمنا می میں جاہ پناہ لی۔ اسی دور کے متعلق بنی یوں فرماتا ہے۔ اور “وہ عورت اُس بیابان کو بھاگ گئی جہاں خُدا کی طرف سے اُس کےلئے ایک جگہ تیاری کی گئی تھی تاکہ وہاں ایک ہزاردوسو ٹھ دن تک اس کی پرورش کی جائے “مکاشفہ 6:12۔ AK 50.3

رومی کلیسیا کے اختیار میں آنے کے ساتھ ہی تاریک زمانے کا آغاز ہو گیا۔ جوں جوں اس کی طاقت میں اضافہ ہوا توں توں تاریکی مزید گہری ہوتی گئی۔ ایمان مسیح یسوع سے جو حقیقی بنیاد ہے منتقل ہو کر روم کے پوپ پر جلا گیاتھا۔ گناہ کی معافی اور ابدی نجات کے لئے خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھنے کی بجا ئے لوگ پوپ اور کاہنوں اور کلیسیا کے اعلے ٰ عہدہ داران کی طرف دیکھنے لگے تھے جن کو پوپ نے اختیار دے رکھا تھا اُنہیں سکھایا تھا کہ پوپ ان کا زمین پر درمیانی ہے اور اُس کے بغیر کوئی بھی خُدا تک رسائی نہیں کر سکتا۔ مزید یہ کہ وہ اُن کے لئے خُدا کی جگہ ہے اس لئے اُس کی تابعداری پوری طرح سے کی جائے ۔ اُس کت مطالبات سے انحراف کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینے کے لئے یہی جواز کافی تھا۔ یوں لوگوں کے اذہان خُدا کی طرف پلٹ گئے جو اُ ن کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ گناہ نے خود کو مقدس لبادے میں جا چھیایا۔ انسانی احکام اور روایات کی سر بلندی کی دولت برائی اُس حد تک جا پہنچی جو خُدا کی شریعت کو برطرف کر نے سے کبھی ہو سکتی ہے۔ AK 50.4

مسیح کی کلیسیا کے لئےوہ دور جان جوکھوں کا زمانہ تھا۔ بے شک تب معیار کو قائم رکھنے والے ایمان اور بہت کم رہ گئے تھے ۔ تو سچائی کی گواہی پوری طرح موقوف نہ ہوئی۔ گو بعض یوں دکھائی دینے لگا جیسے کہ گمراہی اور اوہام پرستی پوری طرح غالب آگئی ہیں اور حقیقی مذہب دنیا نے روپ دھار لئے تھے اور لوگ اس جبری تابعدااری کروانے کے بوجھ تلے دب گئے۔ AK 51.1

انہیں سکھایا گیا کہ وہ نہ صرف پوپ کو درمیانی کے طور پر دیکھیں بلکہ اپنے گناہوں کے کفارہ کے لئے اپنے نیک اعمال پر تکیہ کریں۔ جیسے کہ دوردارز کی یاترا، کفارہ کا عمل، مقرردن اشیاء کی پوجا گھر جا گھروں مزاروں اور قربا نگاہوں کی تعمیر کلیسیا کے لئے کثیر رقم کے نذرانے۔ یہ سب اور اس طرح کے دیگر کام وہ خُدا کے غضب کو ختم یا اس کی حمایت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ جیسے کہ خُدا بھی کسی انسان کی مانند ہے جو معمولی شے پر خفا ہو جا ئے یا وہ گناہ کی معافی کے لئے نذر نے یا تحا ئف لے کر راضی ہو جائے گا۔ AK 51.2

بدی کے بڑھنے کی پرواہ کئے بغیر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ رومن کلیسیا کی قیادت کے اثرور سوخ میں اضافہ ہی ہوتا رہا بلکہ آٹھو یں صدی کے اختیام پر پوپ کے اقتدار کے حامیوں نے دعویٰ کر دیا کہ کلیسیا کے ابتدائی زمانہ کے بشپ آف روم کے پاس بھی یہی روحانی اختیار تھا جسے وہ اب استعمال کرتے ہیں۔ اس دعویٰ کو برقرار رکھنے کے لئے بعض ذرائع کا سہارا لینا ضروری تھا تاکہ اس اختیار کو دکھایا جا ئے۔ اور جھوٹوں کے باپ ابلیس نے بارے پہلے سے ہی مشورہ دے دیا تھا۔ قدیم تحریرات کی راہب حضرات نے نفلی دستاویز پہلے سے تیار کرلیں تھیں۔ قدیم زمانہ سے پوپ کے عالمگیر اختیار کو ثابت کرنے کے لئے کونسلز نے ایسے فرامین دریافت اور پیش کئے جو پہلے کبھی سنے نہ گئے تھے اور جس کلیسیا نے پہلے ہی سچائی کو رد کر دیا تھااس نے دھوکہ دہی کو با خوشی قبول کر لیا۔ AK 51.3

حقیقی بنیاد پر تعمیر کرنے والے جو تھوڑے سے معمار(ا کر نتھیوں 10:3۔ 11) تھے وہ حیران و پر یشان اس وقت تھم گئے جب جھوٹی تعلیم کے اس ملبہ نے ان کے کام کو روک دیا۔ بالکل اسی طرح جیسے نحمیاہ کے زمانہ میں یروشلیم کی دیوار پر معماروں کو روک دیا گیاتھا۔ بہتیرے تھے جو یہ کہنے کو تیار تھے“بوجھ اُٹھانے والوں کا زور گھٹ گیا اور ملبہ بہت ہے سو ہم دیوار نہیں با سکتے” نحمیاہ 10:4۔ ایذارسانی کے خلاف مسلسل جدو جہد کی وجہ سے بہتیر ے سے عاجز آ گئے ۔ فراڈ، بدی بلکہ ہر طرح کا حربہ ان کے کام کو روکنے کے لئے استعمال کیا گیا جو ابلیس استعمال کر سکتا تھا۔ بعض جو بہت ہی وفادار معمار تھے اب دل برداشتہ ہو گئے۔ اور اپنے امن و امان ، پرا پر ٹی اور زندگیوں کی خاطر میں نہ لاتے ہوئے بے خوف و خطر اعلان کیا ان سے مت ڈرو خُدا وند کو جو بزرگ اور مُہیب ہے یاد کرو اور اپنے بھائیوں اور بیٹے، بیویوں اور گھروں کے لئے لڑو نحمیاہ 14:4۔ چناچہ وہ اپنے کام آگے بڑھاتے رہے ۔ اور ہر ایک آدمی اپنی تلوار اپنی کمر سے باندھے ہوئے کام کرتا تھا افسیوں 17:6۔خُدا کے دشمنوں نے ہر زمانہ میں سچائی کے خلاف اسی طرح کی نفرت اور مخالفت کو ہوادی ہے جب کہ دیسی ہی وفاداری اور تابعداری کا مطالبہ خُدا کے بندوں سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ مسیح یسوع نے کلام اپنے پہلے شاگردوں سے کیا اُس کا اطلاق آخری زمانہ کے پیروکاروں پر بھی ویسے ہی ہوتا ہے۔ “جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں کہ جاگتے رہو“مرقس 37:13۔ AK 52.1

تاریکی مزید گہری ہوتی ہوئی دکھا ئی دینے لگی ہے۔ بتوں کی پر ستش عام کر دی گئی۔ ان بتوں کے سامنے موم بتیاں روشن کی جانے لگیں اور ان سے دعائیں مانگی جانے لگیں۔ نہایت ہی بے ہودہ اور اوبام پرست رسومات غالب آگئیں۔ بنی نوع انسان کے ذہن و دماغ اوہام کے اس قدر زیرسایہ آگئے کہ ایسا لگنے لگا جیسا کہ ادراک خود اپنا راستہ کھو بیٹھا تھا ۔ جہاں پر یست اور بشپ خود لذت ، پرست، شہوت پرست اور کرپٹ تھے وہاں اس کے علاوہ کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ جو لوگ ان کی طرف رہنما ئی کے لئے دیکھیں وہ بھی جہالت اور بدی میں غرق ہو جائیں۔ AK 52.2

پوپائی حکومت کو مزید استحکام بخشنے اور مقبول کرنے کے لئے گیارھویں صدی میں ایک اور قدم اٹھایا گیا جب پوپ گر یگری ہفتم نے رومن کلیسیا کے لاخطاہونے کا ڈھنڈوا پیٹا۔ اس نے بھی جتنے دعویٰ کئے ان میں سے ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ بائبل مقدس کے مطابق کلیسیا نے نہ تو کبھی غلطی کی ہے اور نہ ہی کبھی غلطی کی مرتکب ہو گی۔ لیکن پاک نو شتے اس کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کر تے ۔ اس مغرور پوپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ حکما کو معزول کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ جو کچھ وہ ایک مرتبہ کہہ دے کوئی اس کا ایک فقرہ بھی بدل نہیں سکتا ۔ جب کہ اُسے باقی تمام لوگوں کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کا حق حاصل ہے۔ AK 53.1

پوپ گریگری ہفتم جو اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ کلیسیا غلطی نہیں کرتی اس شخص کے جبرہ استبداد کے سبھاو کو کوئی دیکھے جو اس نے جر منی کے حکمران ہنری چہارم کے سانتھ ردارکھا۔ پوپ گر یگری کو گمان ہوا کہ ہنری پوپ کے اختیار کو نا چیز جانتا ہے۔ اس کی پاداش میں پوپ گر یگری نے نہ صرف اُسے کلیسیا سے خارج کر دیا بلکہ اسے تخت سے بھی معزول کر دیا۔ پوپ کے فرمان سے روگردانی کرنے سے خوفزدہ ہو کر اور اپنے شہزادوں کی دھمکیوں سے جنہیں اس کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے اکسایا جارہا تھا۔ ہنری نے روم کے ساتھ مصالحت کرنے کی ضرورت کو اشد ضروری سمجھا۔ اپنی اہلیہ اور وفادار خادموں کے ہمراہ اس نے سردیوں کے وسط میں اپلیس (ALPS)کو عبور کیا تاکہ پوپ کے سامنے جھک سکے۔ جب یہ لوگ اس کے محل(CASTLE) میں پہنچے تو گر یگری کسی اور طرف نکل گیا۔ جب کہ ہنری کو اپنے محافظوں کے بغیر سخت سردی میں باہر صحن میں رکنا پڑا۔ جہاں وہ ننگے سراور پاوں اور پھٹے پرانے لباس میں کھڑا پوپ کے حضور جانے کا خواستگار تھا۔ جب ہنری نے مسلسل تین دن تک فاقہ کر کے اعتراف کر لیا تو پوپ نے اسے معاف تو کردیا۔ مگر وہ اس وقت تک اختیار کو عمل میں نہیں لا سکتا تھا جب تک پوپ اسے اجازت نہ دے دیتا۔ گویا اسے شاہی اختیار ت استعمال کرنے سے پہلے پوپ سے مختار نامہ لینا شرط ٹھہری ۔ اور گر یگری اپنے اس عمل اور فتح پر خوشی سے پھولا نہ سمایا بلکہ اور تکبر کیا یہ میری ڈیوٹی تھی کہ میں بادشاہوں کے غرور کو نیچا دکھاوں۔ AK 53.2

ایسے متکبر پوپ میں جو دوسروں کو نیچا دکھاتا ہے اور مسیح یسوع کی فروتنی اور شرافت میں کس قدر تضاد دیکھا جا سکتا ہے۔ مسیح یسوع اندر آنے کے لئے دلوں پر دستک دیتا ہے تاکہ وہ اندر آکر انہیں گناہوں کی معافی اور سلامتی بخشنے اور پھر اس نی تو اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ “جو تم میں اول ہونا چا ہیےوہ تمہارا غلام بنے” متی 27:20۔ بعد کی صدیوں اس بات کی گواہ ہیں کہ مسیحی تعلیمات میں گمراہی کی مسلسل تعلیم روم کی ہی طرف سے آئی ۔ حالانکہ کہ پوپ کی حکومت قائم ہونے سے پیشتر بر پرستی کی فلاسفی کی تعلیم نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی اور کلیسیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے لئے جدوجہد شروع کردی تھی۔ بہتیرے جنہوں نے میسحیت کو قبول کر لیا تھا وہ بھی ابھی تک بت پرستوں کی فلاسفی کے عقیدے سے چمٹے ہوئے تھے نہ صرف یہ اس کا خود مسلسل مطالبہ کرتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کر ترغیب دینے تھے کی یوں آپ اپنا اثر و سوخ کافروں میں بڑھا سکیں گے۔ مسیحی ایمان میں جھوٹی تعلیم کو متعارف اس طرح سے کروایا گیا- ان میں ایک نمایاں تعلیم اور عقیدہ یہ بھی تھا کہ انسان کو فطرتی بقا حاصل ہے اسلئے مرنے کے بعد اسکے ہوش وحواس قائم رہتے ہیں- اسی عقیدے کی بنیاد پر روم نے مقدسین اور کنواری مریم کی پرستش شروع کرائی- اسی خیال سے غیر تائب لوگوں کے ابدی عذاب کے عقیدے نے جنم لیا جو آغاز ہی سے پاپا ئی ایمان کا حصہ بن گیا۔ AK 54.1

پھر بت پرست عقیدہ کی ایک اور ایجاد کو متعارف کروانے کے لئے راہ تیار کی گئی جسے روم برزخ” پر گاٹوری ” یعنی کفارہ کا مقام کہتا ہے جہاں روحیں پاک ہو تی ہیں۔ یہ عقیدہ بھولے بھالے لوگوں اور اوہام پرست جماعت کو خوفزدہ کرنے کے لئے لاگو کیا گیا۔ اس بدعث نے ثو ثیق کر دی کہ عذاب کی بھی ایک جگہ موجود ہے۔ جہاں وہ روحیں جنہیں ابدی سزا کا حکم تو نہیں دیا گیا مگر امنے گناہوں کی خاطر کچھ دیر عذاب میں پڑے ہوئے اور جیسے ہی وہ پاک صاف ہو جاتے ہیں تو بہشت میں داخل کر دیئے جاتے ہیں۔ AK 54.2

روم کوایک اور جعلسازی کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے ماننے والوں کے خوف و ہراس سے فائدہ اٹھا سکے ۔ لہٰذا ایک نیا نظر یہ معافی نامہ ”انڈ لجنس INDULGENCES“کے عقیدہ کی صور ت میں سامنے آیا۔ اس میں ماضی، حال اور مستقبل کے گناہوں کی معافی اور ہر طرح کے درد سے افاقہ اور حملے سے بچاو اور ان سب کے لئے وعدہ کیا گیا ہے جو پوپ کی دنیوی حکومت کو وسعت دینے کے لئے پوپ کی جنگ کے لئے اپنا نام درج کروائیں گے۔ اور اس کے دشمنوں کو سزا دیں گے۔ یاجو پوپ کی روحانی برتری اور اختیار کا انکار کرنے کی جرات کریں انکو نیست ونابود کر دیں گے۔ لوگوں کو یہ بھی تعلیم دی گئی کہ اگر وہ کلیسیا کی مالی امداد کریں گے تو وہ گناہوں سے آزاد ہو جائینگے اور وہ اپنے ان مردہ عزیزوں کی روحوں کو بھی آزاد کروا سکیں گے جو آگ اور ابدی عذاب سے دوچار ہیں۔ انہیں ذرائع سے روم نے اپنی تجوریاں بھر لیں اور اپنی شان وشوکت اور شہوت پرستی کو قائم رکھا- جب کہ یہ جس خُداوند کے نمائندےہونے کا ڈھونگ رچاتے تھے اس کے پاس تو سر چھپا نے کے لئے بھی جگہ نہ تھی ۔ AK 54.3

پھر بائبل کی عشائے ربائی کو ہٹا کر اس کی جگہ بت پرستوں کی قربانی“ماس” کو رکھ لیا گیا ہے۔ حواس باختہ پاپائی پریسٹس نے مضحکہ خیز رسم بنا دیا ہے۔ وہ یہ ڈھو نگ رچاتے ہیں کہ یہ روٹی اور شیرہ ، سچ مچ” مسیح یسوع کے خون اور بدن میں تبدیل ہو جاتا ہے “کارڈینل وائر مین کا کہنا ہے کہ مبارک یو کیرسٹ (Ercharist) میں ہمارے آقا خُداوند یسوع مسیح کے حقیقی بدن اور خون کی موجودگی کلام خُدا سے ثا بت شدہ ہے۔ لیکچر 8، سیکشن 3، پیرا 26۔ کفر خیالی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کھلم کھلا دعویٰ کیا کہ وہ اس خالق خُدا کو اس رسم میں خود خلق کرنے والے ہیں۔ موت کا خوف دلا کر مسیحیوں کو مجبور کیا گیا کہ ایسی ہیبت ناک اور آسمان کی تکفیر آمیز بدعث کو اپنےایمان کا حصہ بائیں۔ ایک بڑی جماعت جس نے اس بات کا انکار کیا اُنہیں نظر اتش کر دیا گیا۔ AK 55.1

تیرھویں صدی میں پوپ کا سب سے خطرناک حربہ بنام “تفیش” یا “عدالت احتساب” (the Inquisition) قائم کیا گیا ۔ اسے تاریکی کے حاکمنے پوپ کے پیشیواوں کی قیادت میں ابھارا۔ ان کی خفیہ کونسلز کے دوران ابلیس اور اس کے فرشتوں نے ان کا پورا پورا کنڑول سنبھال رکھا تھا، جبکہ انکے درمیان خدا کا ایک غیبی فرشتہ بھی کھڑا تھا جو انکے ڈراؤنے بازپرس فرامین کا ریکارڈ رکھ رہا تھا اور ایسے کاموں کی تا ریخ رقم کر رہا تھا جو انسانی آنکھوں کو بہت ہی ہولناک دکھائی دیتی ہے۔ “بڑا ہابل” جس نے مقدس کا خون بیا۔ وہ کروڑ شہید جب کے ٹکڑے ٹکڑے کئےگئے تھے یہی خُداوند سے مرتد حکومت سے بدلہ لینے کے لئے چلاتے ہیں۔ AK 55.2

پوپ دنیا کا مطلق العنان حکمران بن گیا۔ بادشاہ اور حکمران رومن پوپ کے فرمان کے سامنے سربجود ہوتے تھے۔ ایسے دکھائی دینے لگا کہ بنی نوع انسان کی تقدیر یہاں اور ابدیت میں اس کی کنڑول میں ہے ۔ صدیوں تک روم تک کی تعلیمات کو بڑے پیمانے پر اور پورے یقین کے ساتھ مانا گیا۔ اس کی رسومات کو بڑی تعظیم کے ساتھ بجا لایا گیا اور تہواروں کو منایا گیا۔ ان کے مذہبی رہنماوں کی بڑی عزت افزائی کی گئی اور بڑی فراخد لی سے ان کی دستگیری کی گئی ہے۔ رامن چرچ کبھی بھی اس سے زیادہ اعزاز، تمکنت یا طاقت حاصل نہ کر پایا۔ مگر“پاپائی نظام کی یہ روشن دوپہر دنیا کے لئے نیم شب (گہرا اندھیرا) تھی” AK 55.3

J.A.Wylie, the history of Protestantism, B.1.ch.4 AK 56.1

کلامِ مقدس سے نہ صرف عوام بے خبر تھے بلکہ پر یسٹس بھی اس سے بے بہرہ تھے ۔ قدیم فریسیوں کی طرح پوپی نظام کی قیا دت اس نور سے نفرت کرتی تھی جو ان کے گناہوں کو عیاں کرتا تھا۔ خُدا کی شریعت جو راستبازی کا معیار ہے اسے ہٹا دیا گیا۔ اور اپنی قوت کو حد سے زیادہ استعمال میں لایا گیا، وہ بدی کو بغیر کسی روک ٹوک کے عمل میں لاتے رہے ۔فراڈ، طبع اور شہوت پرستی غالب رہی ۔ روپیہ پیسہ اور جادو مرتبہ حاصل کرنے کے لئے لوگ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے سے اجتناب نہ کرتے تھے۔ پوپوں اور کلیسیا کے اعلےٰ عہدہ دارران کے محلات حرامکاری کا منظر پیش کرنے لگے ۔ بعض حکمران پوپ کے خلاف بغاوت جیسے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے، یہاں تک کہ سیکولز حکمرانوں نے کلیسیا کے ان پاسبانوں کو معزول کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ کیونکہ ان کی بدیاں اس قدر گھناونی تھیں کہ انہیں برداشت کرنا مشکل تھا۔ صدیوں تک پورپ نے آڑٹس (Arts) یا تہذیب و تمدن میں کوئی ترقی نہیں ہونے دی تھی۔ مسیحی ممالک کی اخلاقی اور روشن خیالی پر جیسے فالج ساگر گیا تھا۔ AK 56.2

ایسی مسیحی رومی حکومت تلے دنیا کی حالت ہوسیع نبی کے کلام کی تکمیل پیش کرنے لگی کہ“میرے لوگ عدم معرفت سے ہلاک ہوئے ۔ چونکہ تو نے معروفت کو رد کیا اس لئے میں بھی تجھ کو رد کروں گا۔ چو نکہ تو اپنے خُدا کی شر یعت بھول گیا ہے اس لئے میں بھی تیری اولاد کو بھول جاوں گا۔ یہ ملک راستی و شقفت اور خُدا شنا سی سے خالی ہے۔ م بد زبانی عہد شکنی ، اور خونریز ی اور چوری اور حرامکاری کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ ظلم کرتے ہیں اور خون پر خون ہوتا ہے۔” ہوسیع 6:4، ہوسیع 1:4۔ 2۔ خُدا کے کلام کو ترک کرنے کے ایسے بیناک نتائج دیکھنے کو ملے۔ AK 56.3

*****